26 جولائی 2026 - 17:00
لبنان کے وزیر خارجہ: حزب اللہ کے ہتھیار ختم کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کر لیا گیا ہے

بیروت: لبنان کے وزیر خارجہ و تارکین وطن یوسف رَجی نے کہا ہے کہ حکومت لبنان نے ریاستی اختیار میں اسلحہ رکھنے اور پورے ملک میں لبنانی فوج کی عملداری بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ کے ہتھیار ختم کرنے کا فیصلہ کافی عرصہ قبل کر لیا گیا تھا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یوسف رَجی نے فرانسیسی اخبار "ژورنال دو دیمانش" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی صدر جوزف عون کے حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد "فریم ورک معاہدے" پر عمل درآمد میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں کم ہوئی ہیں اور لبنانی فوج نے طے شدہ ابتدائی علاقوں میں تعیناتی شروع کر دی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ عمل جاری رہے گا اور لبنانی فوج کی موجودگی جنوبی لبنان کے تمام علاقوں تک پھیل جائے گی۔

لبنان کے وزیر خارجہ نے امریکہ کی ثالثی سے طے پانے والے معاہدے کو "فریم ورک معاہدہ" قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ لبنانی حکومت نے تقریباً ڈیڑھ سال قبل حزب اللہ کے ہتھیار ختم کرنے اور اس تنظیم کی تمام فوجی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ہتھیاروں کے استعمال کا اختیار دوبارہ ریاستی اداروں تک محدود کرنا ہے، جس کے لیے حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کے خاتمے اور اس کے ہتھیار ریاست کے حوالے کیے جانے کی ضرورت ہے۔

یوسف رَجی نے واضح کیا کہ حکومت کا اختلاف شیعہ برادری سے نہیں بلکہ حزب اللہ سے ہے، اور حکومت کے نقطۂ نظر کے مطابق حزب اللہ کے سیاسی اور عسکری شعبوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے پاس اسرائیلی رژیم پر اثر انداز ہونے کی سب سے زیادہ صلاحیت ہے، اور ان کے بقول واشنگٹن نے ضمانت دی ہے کہ اسرائیل کا لبنان کی سرزمین پر کوئی دعویٰ نہیں ہے۔

لبنان کے وزیر خارجہ نے فرانس کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ فرانس نے سیاسی عمل کی حمایت، ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے، لبنانی فوج کی مدد، تعمیر نو اور اقتصادی صورتحال بہتر بنانے میں تعاون کیا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں لبنان ایک ایسے ملک میں تبدیل ہوگا جو مکمل استحکام، خودمختاری، تعمیر نو اور ریاستی دائرے سے باہر کسی بھی ہتھیار سے پاک ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha